"، ڈاکٹر داؤد رہبر نے پچاس کی دہائی میں قیام انقرہ کے دوران بپتسمہ لے لیا تھا ۔ ن م راشد صاحب نے کسی موقع پر ان سے کہا کہ باتوں اور خیالات سے تم ہم جیسے ہو، پھر یہ مسیحیت کا کیا پاکھنڈ بنا رکھا ہے ۔ رہبر صاحب نے دل چسپ جواب دیا جو کچھ یوں تھا کہ میں بطور انسان اندر سے بہت کم زور ہوں اور مجھے مایوسی کی انتہا پر پہنچ کر پاگل ہونے یا خود کشی سے بچنے کے لیے ایک نفسیاتی سہارا درکار ہوتا ہے۔ میں نے مارکیٹ میں دست یاب خدا کے جملہ ماڈلز پر نظر ڈالی تو سب سے زیادہ مجھے اس خدا نے اپنی جانب کھینچا جو میری نجات کی خاطر بے قصور سولی پر چڑھ گیا ، سو ۔۔"
No comments:
Post a Comment