Monday, June 08, 2026

Constrains!

کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے 
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے 
کچھ کھیل ہے کہ کہنہ حکایات چھوڑ دے 
گھٹی میں تھے جو حل وہ خیالات چھوڑدے 
ماں کا مزاج باپ کی عادات چھوڑدے 
کس جی سے کوئی رشتۂ اوہام چھوڑ دے 
ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے 

اوہام کا رباب قدامت کا ارغنوں 
فرسودگی کا سحر روایات کا فسوں 
اقوال کا مراق حکایات کا جنوں 
رسم و رواج و صحبت و میراث و نسل و خوں 
افسوس یہ وہ حلقۂ دام خیال ہے 
جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے

(جوش ملیح آبادی) 

No comments: