Showing posts with label poetry. Show all posts
Showing posts with label poetry. Show all posts

Monday, August 03, 2026

Life!


کیا ھو گیا ھے وقت کو نجانے

لمحوں میں گزرتے ھیں زمانے 

Saturday, August 01, 2026

Stereotyping


کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی

وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے

خورشید رضوی 

Monday, June 08, 2026

Constrains!

کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے 
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے 
کچھ کھیل ہے کہ کہنہ حکایات چھوڑ دے 
گھٹی میں تھے جو حل وہ خیالات چھوڑدے 
ماں کا مزاج باپ کی عادات چھوڑدے 
کس جی سے کوئی رشتۂ اوہام چھوڑ دے 
ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے 

اوہام کا رباب قدامت کا ارغنوں 
فرسودگی کا سحر روایات کا فسوں 
اقوال کا مراق حکایات کا جنوں 
رسم و رواج و صحبت و میراث و نسل و خوں 
افسوس یہ وہ حلقۂ دام خیال ہے 
جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے

(جوش ملیح آبادی) 

Friday, March 27, 2026

Soul Tribes

Many times in life, you meet a stranger and feel Ha! He or she looks so familiar... As Yogesh wrote and Mukeshji made it amar 

Kahi to ye, dil kabhi Mil nahi paate 
Kahi se nikal aaye Janmo ke naate


 

Saturday, January 10, 2026

A beautiful Shyr


مجھے رکھ گرفت فریب میں

تیرا جھوٹ بھی مجھے راس ہے


Thursday, October 02, 2025

یہ گزرے ہوئے لوگ، گزر کیوں نہیں جاتے

 تاریخ کی قبروں میں اُتر کیوں نہیں جاتے

یہ گزرے ہوئے لوگ، گزر کیوں نہیں جاتے


جون ایلیا | کتاب : کیوں

Sunday, September 28, 2025

ملو ہا

(Nasir is a good friend, and an excellent poet)

میں نے موہنجو ڈارو دیکھا
میں نے ہڑپہ دیکھا ہے

کیسا عجب زمانہ تھا وہ
زیادہ تو معلوم نہیں
لیکن ان گلیوں میں پھر کر
یہ تو سمجھ میں آتا ہے
لوگ اکٹھے رہتے تھے اور
سارے مل کر کھاتے تھے
کھیت میں ہل چلانے والا
کاریگر ہو یا ہو کاما
سب کے گھر اک جیسے تھے
ہر گھر کا دالان تھا اور
ہر گھر کا دروازہ تھا
گھر کے باہر نالی تھی
 اس کے اوپر جالی تھی

اس میں تھی نہ کوئی مسجد
اور نہ کوئی مندر تھا
اس میں کوئی محل نہیں تھا
لڑنے کے ہتھیار نہیں تھے
اسلحہ کا گودام نہیں تھا

کھیتی باڑی ہوتی تھی اور
خوب تجارت ہوتی تھی
راوی سندھ سے بحری بیڑے
بحرِ عرب سے ہوتے ہوتے
دجلہ فرات کو جاتے تھے
میسوپوٹیما کے باسی
ان کو ملوہا کہتے تھے

کتنے ہزاروں سال پرانا
ایسے لگتا ہے کہ شاید
صدیوں بعد بھی نہ آ پائے
ایسا تھا وہ عجب زمانہ

یورش یا یلغار کوئی تھی
کیسے اُجڑ گیا وہ دور
دریاوں نے رستے بدلے
یا قسمت نے موڑا موڑ
شاید اک دن ایسا آئے
یہ عقدہ بھی حل ہو جائے

میرے جنینی دھاگوں میں
میرے وسیب میں مجھ سے پہلے
 رہنے والے
جن پرکھوں کی تاریں ہیں
اپنی کہانی کا کچھ حصہ
وہ تو لکھ کر چھوڑ گئے ہیں
میں ہی ایسا ان پڑھ ہوں
جو بولی وہ بول گئے ہیں
میں وہ بول نہیں سکتا
جو گانٹھیں وہ جوڑ گئے ہیں
میں وہ کھول نہیں سکتا

میں جانوں کہ میرا ان سے
 کیا ناطہ ہے
مجھ کو اس ضرورت کا
بالکل نہ ادراک ہوا
حیف ہے مجھ پہ
مجھ کو ان سے
اپنی کوئی نسبت کا
بالکل نہ احساس ہوا

ناصر گوندل
حلقہِ اربابِ ذوق، نیو یارک

ہفتہ، ۲ اگست، ۲۰۲۵؁ء