Showing posts with label poetry. Show all posts
Showing posts with label poetry. Show all posts
Wednesday, October 14, 2026
Friday, October 02, 2026
Monday, September 28, 2026
Friday, August 07, 2026
Monday, August 03, 2026
Saturday, August 01, 2026
Stereotyping
کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی
وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے
خورشید رضوی
Sunday, June 28, 2026
Monday, June 08, 2026
Constrains!
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے
کچھ کھیل ہے کہ کہنہ حکایات چھوڑ دے
گھٹی میں تھے جو حل وہ خیالات چھوڑدے
ماں کا مزاج باپ کی عادات چھوڑدے
کس جی سے کوئی رشتۂ اوہام چھوڑ دے
ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے
اوہام کا رباب قدامت کا ارغنوں
فرسودگی کا سحر روایات کا فسوں
اقوال کا مراق حکایات کا جنوں
رسم و رواج و صحبت و میراث و نسل و خوں
افسوس یہ وہ حلقۂ دام خیال ہے
جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے
(جوش ملیح آبادی)
Monday, May 11, 2026
Tuesday, April 21, 2026
Thursday, April 09, 2026
Sunday, April 05, 2026
Friday, March 27, 2026
Soul Tribes
Many times in life, you meet a stranger and feel Ha! He or she looks so familiar... As Yogesh wrote and Mukeshji made it amar
Kahi to ye, dil kabhi
Mil nahi paate
Monday, February 09, 2026
Saturday, January 10, 2026
Tuesday, December 23, 2025
Friday, December 05, 2025
Thursday, October 02, 2025
یہ گزرے ہوئے لوگ، گزر کیوں نہیں جاتے
تاریخ کی قبروں میں اُتر کیوں نہیں جاتے
یہ گزرے ہوئے لوگ، گزر کیوں نہیں جاتے
جون ایلیا | کتاب : کیوں
Sunday, September 28, 2025
ملو ہا
(Nasir is a good friend, and an excellent poet)
میں نے موہنجو ڈارو دیکھا
میں نے ہڑپہ دیکھا ہے
کیسا عجب زمانہ تھا وہ
زیادہ تو معلوم نہیں
لیکن ان گلیوں میں پھر کر
یہ تو سمجھ میں آتا ہے
لوگ اکٹھے رہتے تھے اور
سارے مل کر کھاتے تھے
کھیت میں ہل چلانے والا
کاریگر ہو یا ہو کاما
سب کے گھر اک جیسے تھے
ہر گھر کا دالان تھا اور
ہر گھر کا دروازہ تھا
گھر کے باہر نالی تھی
اس کے اوپر جالی تھی
اس میں تھی نہ کوئی مسجد
اور نہ کوئی مندر تھا
اس میں کوئی محل نہیں تھا
لڑنے کے ہتھیار نہیں تھے
اسلحہ کا گودام نہیں تھا
کھیتی باڑی ہوتی تھی اور
خوب تجارت ہوتی تھی
راوی سندھ سے بحری بیڑے
بحرِ عرب سے ہوتے ہوتے
دجلہ فرات کو جاتے تھے
میسوپوٹیما کے باسی
ان کو ملوہا کہتے تھے
کتنے ہزاروں سال پرانا
ایسے لگتا ہے کہ شاید
صدیوں بعد بھی نہ آ پائے
ایسا تھا وہ عجب زمانہ
یورش یا یلغار کوئی تھی
کیسے اُجڑ گیا وہ دور
دریاوں نے رستے بدلے
یا قسمت نے موڑا موڑ
شاید اک دن ایسا آئے
یہ عقدہ بھی حل ہو جائے
میرے جنینی دھاگوں میں
میرے وسیب میں مجھ سے پہلے
رہنے والے
جن پرکھوں کی تاریں ہیں
اپنی کہانی کا کچھ حصہ
وہ تو لکھ کر چھوڑ گئے ہیں
میں ہی ایسا ان پڑھ ہوں
جو بولی وہ بول گئے ہیں
میں وہ بول نہیں سکتا
جو گانٹھیں وہ جوڑ گئے ہیں
میں وہ کھول نہیں سکتا
میں جانوں کہ میرا ان سے
کیا ناطہ ہے
مجھ کو اس ضرورت کا
بالکل نہ ادراک ہوا
حیف ہے مجھ پہ
مجھ کو ان سے
اپنی کوئی نسبت کا
بالکل نہ احساس ہوا
ناصر گوندل
حلقہِ اربابِ ذوق، نیو یارک
ہفتہ، ۲ اگست، ۲۰۲۵ء
Tuesday, August 26, 2025
Subscribe to:
Posts (Atom)







