Showing posts with label urdu. Show all posts
Showing posts with label urdu. Show all posts

Saturday, August 01, 2026

Stereotyping


کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی

وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے

خورشید رضوی 

Monday, June 08, 2026

Constrains!

کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے 
کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے 
کچھ کھیل ہے کہ کہنہ حکایات چھوڑ دے 
گھٹی میں تھے جو حل وہ خیالات چھوڑدے 
ماں کا مزاج باپ کی عادات چھوڑدے 
کس جی سے کوئی رشتۂ اوہام چھوڑ دے 
ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے 

اوہام کا رباب قدامت کا ارغنوں 
فرسودگی کا سحر روایات کا فسوں 
اقوال کا مراق حکایات کا جنوں 
رسم و رواج و صحبت و میراث و نسل و خوں 
افسوس یہ وہ حلقۂ دام خیال ہے 
جس سے بڑے بڑوں کا نکلنا محال ہے

(جوش ملیح آبادی) 

Sunday, September 28, 2025

ملو ہا

(Nasir is a good friend, and an excellent poet)

میں نے موہنجو ڈارو دیکھا
میں نے ہڑپہ دیکھا ہے

کیسا عجب زمانہ تھا وہ
زیادہ تو معلوم نہیں
لیکن ان گلیوں میں پھر کر
یہ تو سمجھ میں آتا ہے
لوگ اکٹھے رہتے تھے اور
سارے مل کر کھاتے تھے
کھیت میں ہل چلانے والا
کاریگر ہو یا ہو کاما
سب کے گھر اک جیسے تھے
ہر گھر کا دالان تھا اور
ہر گھر کا دروازہ تھا
گھر کے باہر نالی تھی
 اس کے اوپر جالی تھی

اس میں تھی نہ کوئی مسجد
اور نہ کوئی مندر تھا
اس میں کوئی محل نہیں تھا
لڑنے کے ہتھیار نہیں تھے
اسلحہ کا گودام نہیں تھا

کھیتی باڑی ہوتی تھی اور
خوب تجارت ہوتی تھی
راوی سندھ سے بحری بیڑے
بحرِ عرب سے ہوتے ہوتے
دجلہ فرات کو جاتے تھے
میسوپوٹیما کے باسی
ان کو ملوہا کہتے تھے

کتنے ہزاروں سال پرانا
ایسے لگتا ہے کہ شاید
صدیوں بعد بھی نہ آ پائے
ایسا تھا وہ عجب زمانہ

یورش یا یلغار کوئی تھی
کیسے اُجڑ گیا وہ دور
دریاوں نے رستے بدلے
یا قسمت نے موڑا موڑ
شاید اک دن ایسا آئے
یہ عقدہ بھی حل ہو جائے

میرے جنینی دھاگوں میں
میرے وسیب میں مجھ سے پہلے
 رہنے والے
جن پرکھوں کی تاریں ہیں
اپنی کہانی کا کچھ حصہ
وہ تو لکھ کر چھوڑ گئے ہیں
میں ہی ایسا ان پڑھ ہوں
جو بولی وہ بول گئے ہیں
میں وہ بول نہیں سکتا
جو گانٹھیں وہ جوڑ گئے ہیں
میں وہ کھول نہیں سکتا

میں جانوں کہ میرا ان سے
 کیا ناطہ ہے
مجھ کو اس ضرورت کا
بالکل نہ ادراک ہوا
حیف ہے مجھ پہ
مجھ کو ان سے
اپنی کوئی نسبت کا
بالکل نہ احساس ہوا

ناصر گوندل
حلقہِ اربابِ ذوق، نیو یارک

ہفتہ، ۲ اگست، ۲۰۲۵؁ء 

Friday, September 26, 2025

Murshid says!!! - Profound

 آدمی وقت پر گیا ہوگا

وقت پہلے گزر گیا ہوگا


جون


Monday, July 07, 2025

‏اس کے مسیحا کے لیے ایک نظم



‏اجنبی!
‏کبھی زندگی میں اگر تواکیلا ہو
‏اور درد حد سے گزر جائے
‏آنکھیں تری
‏با ت بے بات رورو پڑیں
‏تب کوئی اجنبی
‏تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے
‏تیری قامت کا سایہ بنے
‏تیرے زخموں پہ مرہم رکھے
‏تیری پلکوں سے شبنم چُنے
‏تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!

‏پروین شاکر

Tuesday, July 01, 2025

Firaq and Sahir



جب ساحر لدھیانوی کی نظم "تاج محل" بہت مشہور ہوئی تو ایک عشائیے پر فراق کی ساحر سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے ساحر سے کہا:

بھئی تم نے آثار قدیمہ پر کیا خوب لکھا ہے کہ:

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

اسے تعریف سمجھ کر ساحر نے شکریہ کہا تو فراق بولے:

ایسا کرو اب جامع مسجد دہلی پر بھی ایسا کچھ لکھ ڈالو۔

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی عبادت کا اڑایا ہے مذاق
میرے معبود کہیں اور ملا کر مجھ سے

(انتخاب کلام فراق گورکھپوری" مرتبہ پروفیسر ساجد علی صدیقی)

Thursday, March 06, 2025

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ



ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی نے 1975 میں ایمرجنسی لگا دی تھی ۔ اکیس مہینے کی اس ہنگامی حالت میں انسانی حقوق پامال کیے گئے ۔ اپوزیشن رہنماؤں کو جیل بھیجا گیا اور پریس کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان حالات میں پندرہ اگست کو نئی دلی کے لال قلعے میں تقریب ہوئی ۔ وزیر اعظم اس مشاعرے میں موجود تھیں۔ کلیم عاجز نے اس مشاعرے میں اندرا گاندھی کی طرف اشارہ کر کے یہ شعر (دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ......... تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو) پڑھا۔ شعر پر بہت داد ملی ،لیکن مشاعرہ کے منتظمین کا خون خشک ہوگیا ۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہے
دیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو


Saturday, November 02, 2024

Iqbal on uinverse

  اقبال ۔۔

‏اس کھیل میں تعیینِ مراتب ہے ضروری
‏شاطر کی عنایت سے تو فرزیں، میں پیادہ
‏بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ ناچیز
‏فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ