Friday, March 26, 2021
On travel
Monday, March 22, 2021
'Dead Sexy'
Interesting story regarding writing an obituary.
"just a rockin' dude from Omaha, NE. It attributes his cause of death to "either leukemia or more likely being 'dead sexy'. (Eric's) departure was just in time for him to make his spiritual appearance at every Red Sox spring game. He is preceded in death by billions, including his dog Harvey who most of us loved to hate. We are confident they are joyfully reconnecting right now. Eric loved, in this order, his smoking hot wife, his brilliant kids and family, his many friends, the Boston Red Sox, the Kansas City Chiefs (before being a Chiefs fan was cool), the Huskers, Liverpool Futbol, QT iced tea, Adidas sneakers, fishing, backpacking, hiking, hunting, and any old Chevy he saw on the road. Eric hated sad stories, beets, romantic comedies, a snow packed driveway and turning off the garage light. That's it, Eric was content with most everything else."
Link here: https://www.cnn.com/2021/03/21/us/eric-sauser-dead-sexy-obituary-trnd/index.html
Friday, March 12, 2021
Hafiz Shirazi says
Wednesday, March 03, 2021
"The Sun and the Cave"
"One day the Sun and a Cave struck up a conversation. The Sun had trouble understanding what “dark” meant and the Cave didn’t quite get the hang of “light and clear” so they decided to change places.
Saturday, February 20, 2021
Love at first sight
(Found this beautiful story on the internet: Sounds like a true occurrence: Author not known)
Monday, February 15, 2021
Wednesday, February 10, 2021
Accident and God
I have written 2/3 of posts on Naeem Sahab before. 3 months ago, he was very sick with COVID in ICU. Now he lives in some inner rural town in Lubbock, Texas. During his sickness, I frequently talked to his doctors. Fortunately, he recovered. Once I had my 2 doses of vaccine, on his insistence, I traveled in my car to his place, as I needed some time for myself. Evenings in rural Texas can be mesmerizing with layers of never-seen color-combinations due to the bright sun, open skies with scattered clouds (see pic below). One eve. he took me to drive the area. While we were watching the beautiful sunset, he said:
"Ye sab agar accident hai to phir yahi accident mera khuda hai"
(If this all is a mere accident - I embrace this accident as my God)
Thursday, January 28, 2021
توبه نصوح (Tobatun Nashu- Origin of the story)
نصوح کون تھا....!
نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔ یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.
ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر(موتی یا ہیرا) کھوگیا ہےبادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملانصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں توسچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا، میری لاج رکھ لے مولا۔دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایکپہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاسچر رہی تھی۔اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ، جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں،لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھےانہوں نے نصوح سے پانی مانگانصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھانصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں۔جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی ۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہےآج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہےنصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھےیہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہےیہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجمانوار المجالس صفحہ 432۔ (اخذ مولانا جلال الدین رومی)
Friday, January 22, 2021
Practical and non-miraculous aspect of Muhammad's life
Following is the write-up from a Pakistani physician Dr. Rao Kamran Ali. It created some waves on Facebook and lot of flakes were send his way. I am not trying to take a side but I do think his thoughts make sense. Read and make your own judgement.
عمل اور عشقرسول کریم صل الله عليه وسلم نے چالیس سال کی عمر میں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور تریسٹھ سال کی عمر میں مکمل فرما دیا۔ یہ تیئس سال کا عرصہ ہے جس میں کوئی معجزہ نہیں، کوئی عقل سے بالاتر کام نہیں (معراج کے واقعہ کے حوالے سے میں غامدی صاحب کی رائے سے متفق ہوں) کوئی لمحہ عشق کے نام پر ضائع نہیں۔عمل ہے، محنت ہے، مشقت ہے، جنگیں ہیں، بھوک پیاس ہے، چوٹیں ہیں تکلیفیں ہیں۔جدائیاں ہیں۔ایک بچہ جو نبی کریم کی سنت کی مطابق لوگوں کے درد دور کرنا چاہتا ہے، مدد کرنا چاہتا ہے، شفا دینا چاہتا ہے؛ بارہ سال مسلسل محنت کرکے اسکول اور کالج میں بہترین کارکردگی دکھا کر پانچ سال میں ایم بی بی ایس اور چھ سال میں اسپیشلائزیشن مثلاً کارڈیالوجسٹ یا سرجن بنتا ہے۔ اس راستے میں بہت سے مسائل آتے ہیں، فیس کی کمی ہے، تکلیفیں ہیں، نروس بریک ڈاؤن ہے، مقصد کے حصول کے لئے چھوڑی گئیں ادھوری محبتیں ہیں; لیکن تیئس سال میں بننے والا شاہکار عملیت کی سنت کی راہ پر چلتا اپنی زندگی میں ہزاروں جانیں بچاتا ہے۔دوسری جانب، عمل کی مشکل سنت سے بے پرواہ ؛ خود ساختہ عشق کے نام پر داڑھی بڑھا کر، شلوار ٹخنوں سے اونچی کرکے کوئی کلونجی کی بوری لیکر بیٹھ جاتا ہے اور دوکان کے اوپر (ضعیف ) حدیث لکھ دیتا ہے، “کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے”!!!!
Saturday, January 09, 2021
Wednesday, January 06, 2021
Mera Lahore
Saturday, January 02, 2021
On Origin of name Nehru
Friday, January 01, 2021
Songs of Blue Whales in Indian Ocean
"Not much is known about blue whale songs, although most researchers think that they help males woo their mates, as is the case with closely-related species. That can make any modifications to a cetacean melody fairly high stakes, Dr. de Vos said: “If two populations can’t talk to each other, over time, they’re going to grow apart.”
Interesting article at NY Times: https://nyti.ms/35660zB
Wednesday, December 30, 2020
Monday, December 28, 2020
Cobra Effect
دہلی کے دو بڑے دفاع تھے‘ سانپ اور ساون۔
دہلی میں ساون کا مہینہ بہت سخت ہوتا تھا‘ مون سون شروع ہوتے ہی آسمان دریا بن جاتا تھا‘ یہ بارش دہلی کے مضافات کو دلدل بنا دیتی تھی اور یوں فوجی گاڑیاں اور گھوڑے مفلوج ہو کر رہ جاتے تھے‘ بارش کے بعد حبس اور ہیضہ دونوں حملہ آور فوج پر حملہ کر دیتے تھے‘ سپاہی وردی اتارنے پر مجبور ہو جاتے تھے لیکن آفت کم نہیں ہوتی تھی‘ اسہال اور قے اس کے بعد اگلی مصیبتیں ہوتی تھیں‘ یہ مصیبتیں ابھی جاری ہوتی تھیں کہ پردیسیوں پر مچھر بھی یلغار کر دیتے تھے اور یوں لشکر ملیریا میں بھی مبتلا ہو جاتا تھا‘ حملہ آور فوج کے جو سپاہی ملیریا سے بچ جاتے تھے وہ کوبرا سانپوں کا نشانہ بن جاتے تھے‘ دہلی کے مضافات میں لاکھوں کروڑوں کوبرا سانپ تھے‘ ہندو سانپ کو دیوتا مانتے ہیں‘ یہ سانپ کو مارتے نہیں تھے چنانچہ دہلی کے مضافات سانپ گھر بن چکے تھے‘ یہ سانپ بھی ملیریا کی طرح تخت کے محافظ تھے‘ یہ حملہ آوروں کی باقی ماندہ فوج کو ڈس لیتے تھے‘ یہ سانپ تیمور کےلئے بھی مسئلہ بنے اور جب 1857ءکی جنگ کے بعد انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا تو یہ ان کےلئے بھی چیلنج بن گئے‘ انگریز سپاہی روز دہلی میں کسی نہ کسی کوبرے کا نشانہ بن جاتے تھے‘ آپ کو آج بھی دہلی کے گورا قبرستان میں ایسے سینکڑوں انگریزوں کی قبریں ملیں گی جن کی موت سانپ کے ڈسنے سے ہوئی تھی‘
انگریز دہلی کے سانپوں سے عاجز آ گئے لہٰذا انہوں نے ان سے نبٹنے کےلئے ایک دلچسپ سکیم بنائی‘ انہوں نے دہلی کے مضافات میں ”سانپ ماریں اور انعام پائیں“ کا اعلان کر دیا‘ انگریز اسسٹنٹ کمشنر سانپ مارنے والوں کو نقد انعام دیتے تھے‘یہ انعام چند دنوں میں تجارت بن گیا‘ دہلی کے لوگ کوبرا مارتے‘ اس کی لاش ڈنڈے پر لٹکاتے اور اے سی کے دفتر کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور اے سی کا اردلی سانپ گن کر انہیں انعام کی رقم دے دیتا‘ یہ سلسلہ چل پڑا‘ سینکڑوں لوگ اس کاروبار سے وابستہ ہو گئے‘ دہلی میں سانپ کم ہونے لگے یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آ گیا جب سانپ کے شکاری سارا دن مارے مارے پھرتے لیکن کوئی سانپ ان کے ہتھے نہیں چڑھتا تھا‘ اس صورتحال نے ان لوگوں کو پریشان کر دیا‘ کیوں؟ کیونکہ سانپ کشی ان کا روزگار بن چکا تھا‘ ان لوگوں کو سانپ پکڑنے کے سوا کچھ نہیں آتا تھا اور دہلی میں سانپ ختم ہوتے جا رہے تھے‘ ان لوگوں نے اس کا ایک دلچسپ حل نکالا‘ سپیروں نے گھروں میں سانپ پالنے شروع کر دیئے‘ یہ گھروں میں سانپ پالتے‘ یہ سانپ جب ”سرکاری سائز“ کے برابر ہو جاتے تو یہ روز ایک سانپ مارتے‘ اس کی لاش لے کر اے سی کے دفتر پہنچتے اور انعام لے کر گھر واپس آ جاتے‘ سپیروں کا روزگار ایک بار پھر چل پڑا مگر یہ راز زیادہ دنوں تک راز نہ رہ سکا‘ انگریزوں کو اس کاروبار کی اطلاع مل گئی‘ وائسرائے نے میٹنگ بلائی اور اس میٹنگ میں سپیروں کو انعام دینے کی سکیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ انگریز سرکار نے ہرکاروں کے ذریعے دہلی کے مضافات میں منادی کرا دی ”کل سے سانپ مارنے والے کسی شخص کو انعام نہیں ملے گا“ یہ اعلان سانپ پکڑنے اور مارنے والوں کے سر پر چٹان بن کر گرا اور وہ لوگ مایوس ہو گئے‘ اس وقت ان لوگوں کے قبضے میں لاکھوں سانپ تھے‘ ان لوگوں نے وہ تمام سانپ مایوسی کے عالم میں کھلے چھوڑ دیئے‘ وہ سانپ دہلی اور اس کے مضافات میں پھیل گئے‘ یہ سانپوں کی نسل کشی کے دن تھے‘ سانپوں نے انڈے بچے دیئے اور یوں دہلی میں انسان کم اور سانپ زیادہ ہو گئے‘ انگریزوں نے تحقیق کی‘ پتہ چلا یہ سانپ انعامی سکیم سے پہلے کے سانپوں سے دس گنا زیادہ ہیں‘ اس صورتحال سے ایک اصطلاح نے جنم لیا‘ وہ اصطلاح تھی ”کوبرا ایفیکٹ“ آج بھی جب کسی برائی کو مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش کے نتیجے میں وہ برائی دوگنی ہو جاتی ہے تو اسے ”کوبرا ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔
Thursday, December 24, 2020
Tuesday, December 22, 2020
Teacher! (rather ustad)
Thursday, December 17, 2020
Saturday, December 12, 2020
Zindagi ki aik kask
Ye aik ajeeb si baat hai
Qudrat har insaan ke dil main - zindagi ki rah main - aik kaash - aik kask - choR jaati hai
Kaash main aesa ker leta/leti
Kaash main wesa ker leta/leti
Kisi ko muhabbat ke raaste main galat faisle ki kask, kisi ko shadi ke muamle main kask
kisi ko 'career' main koi 'opportunity' choR dene ki kasak
Yahi kasak saari zindagi insaan ki kick bani rehi hai - jis ke saahare woh aage baRhta rehta hai - I guess a form of psychological compensation.
Saturday, December 05, 2020
Aga Hashar ki aik ghazal
Although Aga Hashar is known in Urdu literature as a pioneer of drama/theater, he was a good poet too. We rarely hear/see his poetry. Here is one









