Thursday, January 28, 2021

توبه نصوح (Tobatun Nashu- Origin of the story)

I always knew "Tobatun-Nashu" as a novel of Deputy Nazir Ahmad but one highly literate friend told me that it was originally described by Rumi. I wish I had time to translate... Alas! never-ending COVID work at the hospital

 

 نصوح کون تھا....!         

 

نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.

وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔ یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.

ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر
 (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے
بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا 
نصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔ 
جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں تو
سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا،  میری لاج رکھ لے مولا۔

دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔

نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔
نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔

کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔

نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔

جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک 
پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔

 ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس 
چر رہی تھی۔  
اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ،  جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں،
لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔

کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے
انہوں نے نصوح سے پانی مانگا 
نصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،

قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا 
نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔
نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔

نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔

آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔ 
وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ 

رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔
بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔
اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں۔

جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا، 
بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ  نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔

جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔

چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے  نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔

نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔

ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہ 
ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی ۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔ 

نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے 
آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے 

نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔

وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔
بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے  
یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے
یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔ 

اسی وجہ سے سچے دل سے  توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔ 

کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم
انوار المجالس صفحہ 432۔ (اخذ مولانا جلال الدین رومی)

Friday, January 22, 2021

Practical and non-miraculous aspect of Muhammad's life

 Following is the write-up from a Pakistani physician Dr. Rao Kamran Ali. It created some waves on Facebook and lot of flakes were send his way. I am not trying to take a side but I do think his thoughts make sense. Read and make your own judgement.

عمل اور عشق

رسول کریم صل الله عليه وسلم نے چالیس سال کی عمر میں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور تریسٹھ سال کی عمر میں مکمل فرما دیا۔ یہ تیئس سال کا عرصہ ہے جس میں کوئی معجزہ نہیں، کوئی عقل سے بالاتر کام نہیں (معراج کے واقعہ کے حوالے سے میں غامدی صاحب کی رائے سے متفق ہوں) کوئی لمحہ عشق کے نام پر ضائع نہیں۔عمل ہے، محنت ہے، مشقت ہے، جنگیں ہیں، بھوک پیاس ہے، چوٹیں ہیں تکلیفیں ہیں۔جدائیاں ہیں۔

ایک بچہ جو نبی کریم کی سنت کی مطابق لوگوں کے درد دور کرنا چاہتا ہے، مدد کرنا چاہتا ہے، شفا دینا چاہتا ہے؛ بارہ سال مسلسل محنت کرکے اسکول اور کالج میں بہترین کارکردگی دکھا کر پانچ سال میں ایم بی بی ایس اور چھ سال میں اسپیشلائزیشن مثلاً کارڈیالوجسٹ یا سرجن بنتا ہے۔ اس راستے میں بہت سے مسائل آتے ہیں، فیس کی کمی ہے، تکلیفیں ہیں، نروس بریک ڈاؤن ہے، مقصد کے حصول کے لئے چھوڑی گئیں ادھوری محبتیں ہیں; لیکن تیئس سال میں بننے والا شاہکار عملیت کی سنت کی راہ پر چلتا اپنی زندگی میں ہزاروں جانیں بچاتا ہے۔

دوسری جانب، عمل کی مشکل سنت سے بے پرواہ ؛ خود ساختہ عشق کے نام پر داڑھی بڑھا کر، شلوار ٹخنوں سے اونچی کرکے کوئی کلونجی کی بوری لیکر بیٹھ جاتا ہے اور دوکان کے اوپر (ضعیف ) حدیث لکھ دیتا ہے، “کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے”!!!!

Saturday, January 09, 2021

Life is not about happiness

 What an important lesson, Life is a higher calling than attaining happiness!

Wednesday, January 06, 2021

Mera Lahore

(Received as a forward. A true account written by Dr. Naeem Siddiqui at California)

It was the last show ending at midnight. Three of us just left the Regal Cinema after we enjoyed our last movie together. Our lives were in limbo. Dreams, fear, and uncertainty of the future were clouding souls. We all wanted to do something big but did not know what that big thing was? I had just finished my medical school and Ahmad wanted to go to NCA, just wanted to see girls. Anis had finished his BSc in Physics. His father had passed away and he inherited this tea stall at the corner of Mall Road near Pak Tea House. We had one bicycle and had to go to Sanda. Two of us got on the bike and the third one had to push it to turn by turn. It was midnight and Mall Road was lonely except for three shadows on a bike. We made it to his home and had to feed ourselves. Not much to eat except leftover beans and few naans. The food was cold but we were hungry. Anis was always quiet and never shared his thoughts except to crack a joke occasionally. I had my dream to come to America and for me all that mattered. 

America America! why are you so far? 

Early in the morning, we headed to our homes to face another day of hope and a foggy future. I wanted something to happen but time was indifferent to my plight and plans. I had a dark moment hanging over my head like a swarm of bees. I needed money and that is something I had never my life. I used to live like a prince at Nishtar with a nonstop supply of books to boots and socks to sweaters from England where father was working in a steel factory, night shift to earn more for our education. I had graduated and wasn’t going’s to ask my father to bail me out. 

The next day was another day with Anis and Ahmad for our midnight ritual. It was midnight and dark and I could hide my face or at least I thought so. Anis, I am very ashamed but I need your help. I need some money. With batting an eye he handed me all that he had earned that day selling tea in hot summer next to a kerosene stove. 400 Rupees and that is all he had. A few months later I left Lahore not to return for another 10 years. 

Life has its own plans overriding ours. I had to find Anis but his brother had taken over the tea stall he was not in contact with Anis. I lost Anis and Ahmed had gone to Germany. Back to NY and the endless brutal fight to survive and succeed in a residency had consumed my time and life and I forgot Anis. Another ten years filtered through my palm like dry sand. I had to find Anis but he fell off the face of the earth. 

In my rare moments of solitude, I kept his kindness alive and finally, I found him. 

He was married and had a daughter, doing odd jobs in Lahore. Hello Anis,,,, this is Naeem. I owe you some money. I don’t remember, he said. But I do and told him about midnight escapes and watching the Movie Collector. I am paying you back and I don’t have words to say what I want to say. 

That is what friends do for friends. You owe me nothing. 

That is the Lahore ... My Lahore. 

PS:  The Tea Stall is still there on the mall next to Pak Tea House. It is bonded.

Saturday, January 02, 2021

On Origin of name Nehru

How the surname Kaul became Nehru is best explained by Frank Moraes in his book, 'Jawaharlal Nehru A Biography': “We were Kashmiris". 

"Over two hundred years ago, early in the eighteenth century, our ancestor came down from that mountain valley to seek fame and fortune in the rich plains below. Those were the days of the decline of the Moghal Empire after the death of Aurungzeb, and Farrukhsiar was the Emperor. Raj Kaul was the name of that ancestor of ours and he had gained eminence as a Sanskrit and Persian scholar in Kashmir. He attracted the notice of Farrukhsiar during the letter’s visit to Kashmir, and, probably at the Emperor’s instance, the family migrated to Delhi, the imperial capital, about the year 1716. A jagir with a house situated on the banks of a canal had been granted to Raj Kaul, and, from the fact of this residence, ‘Nehru’ (from nahar, a canal) came to be attached to his name. Kaul had been the family name; this changed to Kaul-Nehru; and, in later years, Kaul dropped out and we became simply Nehrus.”

Friday, January 01, 2021

Songs of Blue Whales in Indian Ocean

 "Not much is known about blue whale songs, although most researchers think that they help males woo their mates, as is the case with closely-related species. That can make any modifications to a cetacean melody fairly high stakes, Dr. de Vos said: “If two populations can’t talk to each other, over time, they’re going to grow apart.”

Interesting article at NY Times: https://nyti.ms/35660zB




Monday, December 28, 2020

Cobra Effect

Checked few references before posting. Seems like a cedible story

 

 دہلی کے دو بڑے دفاع تھے‘ سانپ اور ساون۔ 

دہلی میں ساون کا مہینہ بہت سخت ہوتا تھا‘ مون سون شروع ہوتے ہی آسمان دریا بن جاتا تھا‘ یہ بارش دہلی کے مضافات کو دلدل بنا دیتی تھی اور یوں فوجی گاڑیاں اور گھوڑے مفلوج ہو کر رہ جاتے تھے‘ بارش کے بعد حبس اور ہیضہ دونوں حملہ آور فوج پر حملہ کر دیتے تھے‘ سپاہی وردی اتارنے پر مجبور ہو جاتے تھے لیکن آفت کم نہیں ہوتی تھی‘ اسہال اور قے اس کے بعد اگلی مصیبتیں ہوتی تھیں‘ یہ مصیبتیں ابھی جاری ہوتی تھیں کہ پردیسیوں پر مچھر بھی یلغار کر دیتے تھے اور یوں لشکر ملیریا میں بھی مبتلا ہو جاتا تھا‘ حملہ آور فوج کے جو سپاہی ملیریا سے بچ جاتے تھے وہ کوبرا سانپوں کا نشانہ بن جاتے تھے‘ دہلی کے مضافات میں لاکھوں کروڑوں کوبرا سانپ تھے‘ ہندو سانپ کو دیوتا مانتے ہیں‘ یہ سانپ کو مارتے نہیں تھے چنانچہ دہلی کے مضافات سانپ گھر بن چکے تھے‘ یہ سانپ بھی ملیریا کی طرح تخت کے محافظ تھے‘ یہ حملہ آوروں کی باقی ماندہ فوج کو ڈس لیتے تھے‘ یہ سانپ تیمور کےلئے بھی مسئلہ بنے اور جب 1857ءکی جنگ کے بعد انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کیا تو یہ ان کےلئے بھی چیلنج بن گئے‘ انگریز سپاہی روز دہلی میں کسی نہ کسی کوبرے کا نشانہ بن جاتے تھے‘ آپ کو آج بھی دہلی کے گورا قبرستان میں ایسے سینکڑوں انگریزوں کی قبریں ملیں گی جن کی موت سانپ کے ڈسنے سے ہوئی تھی‘


 انگریز دہلی کے سانپوں سے عاجز آ گئے لہٰذا انہوں نے ان سے نبٹنے کےلئے ایک دلچسپ سکیم بنائی‘ انہوں نے دہلی کے مضافات میں ”سانپ ماریں اور انعام پائیں“ کا اعلان کر دیا‘ انگریز اسسٹنٹ کمشنر سانپ مارنے والوں کو نقد انعام دیتے تھے‘یہ انعام چند دنوں میں تجارت بن گیا‘ دہلی کے لوگ کوبرا مارتے‘ اس کی لاش ڈنڈے پر لٹکاتے اور اے سی کے دفتر کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور اے سی کا اردلی سانپ گن کر انہیں انعام کی رقم دے دیتا‘ یہ سلسلہ چل پڑا‘ سینکڑوں لوگ اس کاروبار سے وابستہ ہو گئے‘ دہلی میں سانپ کم ہونے لگے یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آ گیا جب سانپ کے شکاری سارا دن مارے مارے پھرتے لیکن کوئی سانپ ان کے ہتھے نہیں چڑھتا تھا‘ اس صورتحال نے ان لوگوں کو پریشان کر دیا‘ کیوں؟ کیونکہ سانپ کشی ان کا روزگار بن چکا تھا‘ ان لوگوں کو سانپ پکڑنے کے سوا کچھ نہیں آتا تھا اور دہلی میں سانپ ختم ہوتے جا رہے تھے‘ ان لوگوں نے اس کا ایک دلچسپ حل نکالا‘ سپیروں نے گھروں میں سانپ پالنے شروع کر دیئے‘ یہ گھروں میں سانپ پالتے‘ یہ سانپ جب ”سرکاری سائز“ کے برابر ہو جاتے تو یہ روز ایک سانپ مارتے‘ اس کی لاش لے کر اے سی کے دفتر پہنچتے اور انعام لے کر گھر واپس آ جاتے‘ سپیروں کا روزگار ایک بار پھر چل پڑا مگر یہ راز زیادہ دنوں تک راز نہ رہ سکا‘ انگریزوں کو اس کاروبار کی اطلاع مل گئی‘ وائسرائے نے میٹنگ بلائی اور اس میٹنگ میں سپیروں کو انعام دینے کی سکیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ انگریز سرکار نے ہرکاروں کے ذریعے دہلی کے مضافات میں منادی کرا دی ”کل سے سانپ مارنے والے کسی شخص کو انعام نہیں ملے گا“ یہ اعلان سانپ پکڑنے اور مارنے والوں کے سر پر چٹان بن کر گرا اور وہ لوگ مایوس ہو گئے‘ اس وقت ان لوگوں کے قبضے میں لاکھوں سانپ تھے‘ ان لوگوں نے وہ تمام سانپ مایوسی کے عالم میں کھلے چھوڑ دیئے‘ وہ سانپ دہلی اور اس کے مضافات میں پھیل گئے‘ یہ سانپوں کی نسل کشی کے دن تھے‘ سانپوں نے انڈے بچے دیئے اور یوں دہلی میں انسان کم اور سانپ زیادہ ہو گئے‘ انگریزوں نے تحقیق کی‘ پتہ چلا یہ سانپ انعامی سکیم سے پہلے کے سانپوں سے دس گنا زیادہ ہیں‘ اس صورتحال سے ایک اصطلاح نے جنم لیا‘ وہ اصطلاح تھی ”کوبرا ایفیکٹ“ آج بھی جب کسی برائی کو مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش کے نتیجے میں وہ برائی دوگنی ہو جاتی ہے تو اسے ”کوبرا ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔

Tuesday, December 22, 2020

Teacher! (rather ustad)

When Dr. Abdus Salam won the Nobel Prize in December 1979, he issued a request to the Indian government seeking to locate his teacher Professor Anilendra Ganguly, who had taught him mathematics at the Sanatan Dharma College in Lahore. However, following Partition, Professor Ganguly had migrated to India. Finally, two years after winning the Nobel Prize, Dr. Salam went to pay his respects to Professor Ganguly at the latter’s residence in South Kolkata on January 19, 1981. 

The teacher was feeble and unable to sit up and greet him when Dr. Salam visited him in his house. Dr. Salam took his Nobel medal and said that: ‘Mr. Anilendra Ganguly this medal is a result of your teaching and love of mathematics that you instilled in me,’ and he put the medal around his teachers’ neck,”


 

Thursday, December 17, 2020

Saturday, December 12, 2020

Zindagi ki aik kask

 Ye aik ajeeb si baat hai

Qudrat har insaan ke dil main  - zindagi ki rah main - aik kaash - aik kask - choR jaati hai

Kaash main aesa ker leta/leti

Kaash main wesa ker leta/leti

Kisi ko muhabbat ke raaste main galat faisle ki kask, kisi ko shadi ke muamle main kask

kisi ko 'career' main koi 'opportunity' choR dene ki kasak

Yahi kasak saari zindagi insaan ki kick bani rehi hai - jis ke saahare woh aage baRhta rehta hai - I guess a form of psychological compensation.

Saturday, December 05, 2020

Aga Hashar ki aik ghazal

 Although Aga Hashar is known in Urdu literature as a pioneer of drama/theater, he was a good poet too. We rarely hear/see his poetry. Here is one



Friday, November 27, 2020

Interesting take!

Still not sure if I agree with this but find it thought-provoking. 
 


 

Saturday, November 21, 2020

The judgement of a split second

 It was 2017. I was in London for a conference. As it was hard to find a cheap and decent hotel around the conference center, I stayed away from London in a smaller town named Burgess Hill and decided to take the bus - I explicitly remember bus # 523. It was summertime, so it was good to walk and enjoy the bus ride.

One eve., as I was on this side of the road, I saw bus #523 at the stop on the other side of the road. I thought I could jaywalk the main road and catch the bus. I had an old English man standing beside me. He said: "Don't Do! There is no way you can catch that bus". Knowing my skills of catching buses from Karachi, I asked, 'how you know?' He smiled in the classic English style and answered in an accent. "I know because when you live in an area for decades, you gain enough experience and the skill of judgment of a split second." 

For many days, I thought about his notion of the judgment of a split second. Indeed, when you get experience in any matter of life, what makes you superior to a novice is a split second, which makes the difference. The whole wisdom is about gaining that split of a second.

Monday, November 16, 2020

Fourth Wall

 Insaan zindagi main baRe drame kerta hai - aur jawani main kuch ziyada hi. 

When I was 19, I gave an audition at the Karachi Arts council for acting. To imitate India, Pakistani actors were getting serious about formal training in acting. To make a story short, I was selected (which I never pursue after a few classes). The first lecture was from actor Talat Hussain. On that day, I realized he is indeed an actor of high caliber with a depth of knowledge in literature and human emotions. On that day, he said a beautiful thing.

"Actor's biggest obstacle is the fourth wall. An actor on stage has three walls around him but there is an unseen wall between him and an audience. You need to learn to break that wall and connect with your audience. That's the only skill you might need all your life even if you are not an actor. You will need this everywhere. This skill of connecting with the soul and psyche of your audience to strike the cord is the essence of your success".

Saturday, November 07, 2020

Patthar

 The following is considered the hallmark poem of Ahmad Nadeem Qasmi. Reportedly was written when a student at the National College of Arts, Lahore made his sculpture. The photo was taken at that moment and history and poem both were saved.



پتھر - احمد ندیم قاسمی


ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار

ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں

میں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکن

کون سے رنگ کا پتھر ترے کام آئے گا

سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا

یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر

جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے

کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی

جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے

اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیب سفید

اس کے مرمر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے

ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر

ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے

جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں

جتنی اقدار ہیں اس دور کی سب پتھر ہیں

سبزہ و گل بھی ہوا اور فضا بھی پتھر

میرا الہام ترا ذہن رسا بھی پتھر

اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے

ہاتھ پتھر ہیں ترے میری زباں پتھر ہے

ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار 

Thursday, November 05, 2020

Paradox of history

As I was watching the USA's election in the doctor's lounge, one old-timer physician made an interesting comment: 

"It is interesting that in history, people have switched sides. In the Civil War, Republicans were in the North led by Abraham Lincoln and were anti-slavery. Pro-slavery conservative white democrats dominated the South. One hundred sixty years fast forward; the North is full of socialist democrats, and the South is red, more conservative states. Unfortunately, this is true throughout human history. Victims turned into aggressors; defenders became attackers; pacificists generated into warmongers; anti-this and pro that switched to anti-that and pro-this; and builders turned into destroyers or vice versa. Pick any nation, religion, or culture - you will see this phenomenon perpetually happening".

*