Friday, August 05, 2022

True Beauty as per Azad

مولانا ابوالکلام آزاد 

 وہ انسان ہی نہیں ، جو خوبصورتی سے متاثر نہ ہو۔ خوبصورتی کے بہت سارے رنگ روپ ہیں ۔خوبصورت انسان ، خوبصورت نظارہ ، خوبصورت لمحہ، اللہ کی خوبصورت کائنات ۔ان سب خوبصورتیوں سے بڑھ کے ایک خوبصورتی ہے، جو لازوال ہے، جو لافانی ہے، اس خوبصورتی کو اندیشہ خزاں نہیں ۔

 یہ خوبصورتی سوچ، فکر اور اعلٰی نظریہ کی ہوتی ہے۔ یہ انسان کے کردار کو ڈھالتی ہے، اس کو تراشتی ہے، اس کی ذات کو اور انسانوں کے لیے مفید اور دلکش بناتی ہے، انسانیت کے لیے مر مٹنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور انسان کی ذات میں کائنات کی ساری خوبیاں ، اچھائیاں جمع کر دیتی ہیں ۔ سوچ، فکر اور نظریہ جتنا اعلٰی ، برتر وارفع ہوگا، انسان اتنا ہی خوبصورت ہوگا۔..!!

Tuesday, August 02, 2022

Feeling

 "What are you thinking "? the girl asked.

' Nothing.'
" You have to think something."
' I was just feeling.'

Ernest Hemingway, The Garden of Eden

Monday, August 01, 2022

'is rang ka kapRa'

 (overheard at Zainab market, Karachi - while I wait to buy my thing)

"Bhaiyya is rang ka kapRa mil jaaye ga (holding color's paper). Aik shalwar kurta banwana hai"

"Nahi bhai - ye rang to nahi, is se milte julte rang ka kapRa dikha dun?"

"Nahi bhaiyya, bilkul aesa hi rang chahiye"

"Bilkul yahi rang to kabhi nahi dekha. Sirf yahi rang kiun?"

"bachpan se aik hi khawab dekhta hun. Is rang ka shalwar kurta pehne madhosi main madina ki galion main majzoob bane, dholak ki thaap pe, nachta phir raha hun. Bhai Madine jana hai. Kisi aur dukan se mil jaaye ga?'

"nahi bhaiyya ye rang hume nahi maalum - ajeeb hi shade hai"

(man walks away)

Sunday, July 31, 2022

Sachhe log

 فیض احمد فیض طالب علم تھے اور کالج میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تاش کھیل رہے تھے کہ اچانک ان کے استاد صوفی غلام مصطفی تبسم پہنچ گئے۔ لڑکوں کے ہاتھ میں تاش کے پتے دیکھ کر خوب بپھرے، خوب گرجے کہ تم لوگ نالائق ہو، لچے ہو لفنگے ہو اور کالج میں تاش کھیلتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ جب شاگردوں کا منہ فق ہو گیا ، ہونٹ خشک ہو گئے اور سر ندامت کے مارے جھک گئے تو صوفی صاحب خود بھی بیٹھ گئے اور بولے "اچھا ہمارے پتے بھی بانٹو"۔ فیض صاحب نے صوفی صاحب کی موجودگی میں مجھے بتایا کہ "ہم نے سارے شرعی عیب صوفی صاحب سے سیکھے ہیں۔" 


(مرزا ظفر الحسن کی خود نوشت "ذکرِ یار چلے" سے اقتباس)

Saturday, July 23, 2022

Aik Joota

(lost one shoe in travel)

Dadi kehti thiN: "Agar safar main aik joota kho jaaye to kisi ki muhabbat rok rahi hai ya shaayed wahan ki zameen tumhe chahne lagi hai"

Allajh jane kitna sach hai

Friday, July 22, 2022

A Nizar Qabbani poem

 روشنی لالٹین سے مقدّم ہے

‏نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے

‏اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے

‏تمہارے نام میرے خط

‏ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی

‏صرف یہی وہ دستاویز ہیں

‏جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے

‏تمہارا حسن

‏اور میرا پاگل پن۔

‏نزار قبانی

Sunday, July 17, 2022

Rizq

 "Ye gulehri (squirrel) bhi ajeeb janwar hai. Shahar main bhi utna hi khush rehta hai jitna jungle main"

"Is liye ke woh sirf apne rizq pe dhiyaan deta hai. Insaan ki saari muskilain tab shuru hui jab usne dusre insaan ke rizq pe zarb lagana shuru ki."

Friday, July 15, 2022

From Raja Gidh

(One of the finest novel ever written - Raja Gidh from Banu Qudsia)
“مرد اور عورت جب سچے دل سے پریم بھگتی کرتے ہیں تو پھر وہ گناہ نہیں کرتے بلکہ اپنی کنڈالنی کو آزاد کرتے ہیں”

“وہ بد بخت کیا چیز ہے؟”

“ انسان کے جسم کا ایک حصہ نظر آتا ہے اور دوسرا حصہ نگاہوں سے اوجھل ہے۔ ہمارے غدودی نظام کے ساتھ ساتھ طاقت کا ایک اور وجود بھی چلتا ہے۔ یہ وہ سرچشمہ طاقت ہے جو آدمی کی creative Energy کہلاتا ہے۔ 

ہم دونوں تھوڑی دیر خاموش رہے پھر وہ بولی 

“ یہ کنڈالنی چنڈالنی کون ہے؟”

“واقعی یہ کنڈالنی ہی چنڈالنی ہے۔ یہ وہ سانپ ہے جو ہمارے مقعد اور عضو تناسل کے درمیان استراحت کرتا ہے”

“ ہائے میں مری”

“ یہی کنڈالنی کی قوت آہستہ آہستہ اوپر کو سر اٹھانے لگتی ہے۔ پھر ایک چکر تک پہنچتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اوپر اٹھتی ہے۔ حتی کہ ہمارے سر تک پھن اٹھا کر جا پہنچتی ہے۔ اس کنڈالنی کے سفر میں انسان کی فنا یا بقا ہے” 

( بانو قدسیہ ۔ راجہ گدھ۔ صفحہ نمبر 244, 245)

Wednesday, July 13, 2022

Correction by mother nature

 (conversation)

"kiya ye sach hai ke jab kahin kisi basti main koi dil se aah o zaari kerta hai to zameen phat paRti hai ya aasman baras parta hai.. ye bhi kehte hain, wahan zameen banjar ho jaati hai"

"shayed sach hi hai. Agar aesa na hota to insaani bhaRye kab ke is zameen ko noch noch ke kha chuke hote"

Monday, July 11, 2022

Women

 بتی بجھا دو سب عورتیں یکساں ہو جائیں گی

~سعادت حسن  منٹو

Close the light; and all women would be the same 
- (credited to Manto but not sure if this is said by him)

Saturday, July 09, 2022

Wounds

ہم زخم کے ذریعے سانس لیتے ہیں ..

پابلو نرود 

We breathe through our wounds ~ Pablo Neruda

Sunday, July 03, 2022

A lesson in Urdu Grammar

*علم النحو کی کہانی* 

گاٶں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا ۔اس کا نام "لفظ" تھا۔ اس کے دو بھائی تھے ۔
 ایک کا نام موضوع اور دوسرے کا نام مہمل ۔ 
   موضوع بہت ہوشیار لڑکا تھا۔ ہر چیز کا معنی بتاتا ۔ سمجھ میں آجاتا تھا۔
 اور مہمل ، وہ تو پاگل تھا۔ہر چیز الٹی بتاتا، جس کا کوئی مطلب نہ نکلتا ۔
 موضوع کے دو بیٹے تھے ۔
 ایک کا نام مفرد تھا ، دوسرے کا نام مرکب۔ مفرد اکیلا اکیلا پھرتا تھا جب کہ مرکب سب کے ساتھ مل کر چلتا تھا ۔ 
مرکب کے بھی دو دوست تھے۔ ایک کا نام مرکب ناقص ، دوسرے کا نام مرکب تام تھا۔
مرکب ناقص بڑا نالائق لڑکا تھا۔ ہمیشہ ادھوری بات کرتا۔ کسی کی سمجھ میں اس کی کوئی بات نہیں آتی تھی ۔
 مرکب تام بھائی بہت اچھا لڑکا تھا ایسی صاف بات کرتا کہ پاگل بھی سمجھ جاتا۔ وہ ہر چیز کی خبر دیتا۔ سچ میں جھوٹ ملا کر بات کرتا۔ اس لیے وہ خود کو وزیر نحو کہا کرتا۔

پھر یوں ہوا کہ اچانک گاؤں میں ایک یتیم لڑکا آگیا, جس کا نام "کلمہ" تھا , جس کے ساتھ تین لوگ اور بھی تھے .
 ان کا نام اسم، فعل، اور حرف تھا۔
 اسم بیچارہ , بہت امیر تھا ،اپنا سب کام خود کرتا۔ کسی سے کچھ مدد نہ لیتا۔
  فعل ہمیشہ کنجوسی سے اپنا کام خود کرتا۔ دوسروں کو بھی لے کر آتا ۔اکیلا آتے ہوئے ڈرتا کہ کہیں کوئی کام غلط نہ ہو جائے۔
حرف بہت غریب تھا۔ نہ کھانے کےلیے کچھ اور نہ پہننے پہنانے کے لیے۔
 کچھ اسم سے ، کچھ فعل سے مدد لےکر اپنی گزر اوقات کرلیتا ، لیکن بعض اوقات ایسے کرتب دکھاتا کہ سارے گاؤں والے عش عش کر اٹھتے۔
لبھائی اسم کی دو بیویاں تھیں۔
 اک کا نام معرفہ تھا۔ دوسری کا نام نکرہ۔
 معرفہ آنٹی ہمیشہ خود کو خاص سمجھتی تھیں۔مشہور و معروف تھیں۔ سب انہیں جانتے تھے۔
 نکرہ آنٹی بہت سادہ سی رہتیں۔عام سی خاتون تھیں۔ انکساری اتنی کہ خود کو کچھ نہیں سمجھتیں۔
 آنٹی معرفہ کے سات بچے تھے۔ 
  تین لڑکیاں اور چار لڑکے۔
 بچوں کے نام تھے ، ضمیر، علَم ، اشارہ ، موصول ، معرٗف باللام، معرف بالاضافة ، معرف بالنداء.
بھائی ضمیر ، وہ تو بس سارا دن ہی ،تو تو ، میں میں ، وہ وہ کرتا رہتا۔

بھائی علَم ، اپنے آپ کو خاص سمجھتا۔ اپنے خاص نام پر فخر جتاتا۔
 کہتا : میرے جیسا کوئی نہیں۔
بھائی اشارہ ، وہ تو بس دوسروں پر بلا وجہ انگلی اٹھا اٹھا کر الزام تراشی کرتا رہتا ۔ اس کے بغیر اسے سکون ہی نہیں ملتا۔
بھائی موصول، ہمیشہ اپنے دوست کے ساتھ مل کر کام کرتا۔
معرف باللام بہن ، محترمہ اتنی نخریلی ہیں کہ بس ان کی ہمیشہ گھر میں لڑائی ہی رہتی ہے۔ ضد ہے کہ میرے شروع میں الف لام لگاؤ کیوں کہ وہ میری تب جان ہے۔
معرف بالاضافة بہن ، بہت ہوشیار لڑکی ہے ، اپنے خاص نام کو اپنے خاص پسندیدہ کھانے سے جوڑتی ہے تاکہ کوئی کھا نہ جاۓ۔
معرف بالنداء بہن ، بہت ضدی لڑکی ہے۔ اس سے سب بہت تنگ ہیں۔ کہتی ہے: میں اپنا کام سب کچھ خود کروں گی۔ کسی کو ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔
ندا بہن کے دو پکے دوست تھے۔
 ایک کا نام مذکر ، دوسرے کا نام مونث تھا۔
 مذکر میں لڑکی کی کوئی علامت نہ تھی۔ 
 کہتا : میں میل ہوں۔میں لڑکا ہوں۔  
مؤنث کہتی : میں لڑکی ہوں۔ مجھے کبھی کوئی غلطی سے بھی لڑکا نہ کہنا۔ میں بہت خطرناک ہوں۔
مؤنث کی 3 بیٹیاں ہیں۔ 
 جن کے نام 
گول ة ، الف مقصورہ اور الف ممدودہ ہیں۔
گول ة بہن، ایک ضدی لڑکی ہے ، جو کہتی ہے میری خوب صورت چاند سی گول شکل کبھی نہ بگاڑنا۔
 الف ممدودہ بہن ، اونچی پوری دراز قد ہمدرد لڑکی ہے ، تنہا باہر نہیں نکلتی۔ باجی ھمزہ کو بھی اپنے ساتھ لیکر آتی ہے۔ خوش گلو اور بلند آہنگ ہے۔
 الف مقصورہ بہن، 
توبہ توبہ وہ تو باجی ھمزہ سے حسد کرتی ہے۔ ساتھ تو دور کی بات ہے ، کبھی اپنے پاس بھی نہیں بٹھاتی۔
 مؤنث کے دو سہیلیاں ہیں۔ 
 
 ایک کا نام آنٹی مؤنث حقیقی تو دوسری کا نام آنٹی مؤنث لفظی ہے۔
آنٹی مؤنث حقیقی ہمیشہ اپنا مقابلہ مرد کے ساتھ کرتی ہیں۔ 
آنٹی مؤنث لفظی ، بہت نرم و نازک ہیں۔ لو بلڈ پریشر LOW BP کی مریضہ ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ مرد کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اسی لیے آنٹی مونث حقیقی ، اسے چھوڑ کر واحد کے گھر چلی گئیں۔
 واحد ہمیشہ اکیلا رہتا۔اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا تھا۔
 واحد کے دو بھائی ہیں۔ ایک کا نام تثنیہ بھائی ہے، دوست مثنی بھائی کہتے ہیں۔ 
 دوسرےکا نام جمع بھائی ہے۔ 
بھائی مثنی کہتے ہیں: میں تو صرف دو کے ساتھ رہوں گا۔ کسی تیسرے کے ساتھ مجھےکبھی گوارا نہیں۔
 بھائی جمع توبہ توبہ ! 
وہ تو سارا دن دوست بناتا رہتا ہے۔کم از کم تین ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ جمع سے گھر والے تنگ ہیں۔ جمع بیچارے کو گھر سے نکال دیا گیا ، وہ اپنے دوست جمع سالم اور جمع مکسر کے پاس گیا۔

جمع سالم ، ہمدرد انسان ہیں شریف ۔کسی کو نہیں چھیڑتے۔اپنی پیٹھ پر اون ، این ، آت کا بوجھ لاد لیتے ہیں۔

لیکن جمع مکسر ضدی بھی ہیں اور شعلہ مزاج بھی۔ پیسے نہیں ملتے ، یا کھانا نہیں ملتا تو گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی ڈانٹے تو کہتے ہیں : میں جدت پسند ہوں۔ نئی نئی چیزیں بناتا ہوں 


Author unknown